28 نومبر 2011 - 20:30

ڈی جی پاک ملٹری آپریشنز: نیٹو حملہ ارادتاً اور بلا شتعال/ آئل کیئریر مالکان: فی الحال نیٹوکو تیل کی فراہمی نہیں/ گورنر خیبرپختونخوا: یہ واقعہ نظرانداز نہیں کیاجاسکتا/ شہباز شریف: قاتلوں سے امداد لینا بے غیرتی ہے/ سلامتی کونسل کے صدر کے نام پاکستانی مندو ب کا خط / نیو یارک ٹائمز: پاکستان میں جوابی کارروائی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے/ جنرل مارٹن: نیٹو حملے پر پاکستانیوں کا غصہ جائز ہے۔

نیٹو حملہ ارادتاً اور بلا شتعال لگتا ہے،ڈی جی پاک ملٹری آپریشنز 
پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزمیجرجنرل اشفاق ندیم نے کہا ہے کہ نیٹو نے مہمند ایجنسی میں تباہ شدہ چیک پوسٹوں کے معائنہ کیلئے جانے والے پاک فوج کے افسران پر بھی فائرنگ کی تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔ جی ایچ کیو راول پنڈی میں سینئر صحافیوں کو نیٹو حملے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل اشفاق ندیم نے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق نیٹوحملہ بلا اشتعال اور ارادتاً کیا گیا حملہ ہی لگتا ہے ۔ نیٹو حکام کے علم میں تھا کہ اس علاقے میں پاکستانی چیک پوسٹ موجود ہے، سرحدی علاقے میں آپریشن کیلئے کوآرڈنیشن رولز واضح ہیں لیکن نیٹو نے کسی ایک اصول پر بھی عمل نہیں کیا۔ میجر جنرل اشفاق ندیم نے بتایا کہ قواعد کے مطابق سرحدی علاقے میں کسی بھی آپریشن سے پہلے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جاتا ہے اور حملے کے بعد جب نیٹو حکام سے رابطہ کیا گیا تو پاک فوج کے ساتھ غلط بیانی کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی ملٹری آپریشنز نے کہاکہ جن پوسٹوں پر حملہ کیا گیا ان کے بارے میں طالبان کے ٹھکانے ہونے کا شک نہیں کیا جاسکتا، میپ ریفرنس میں ان پوسٹوں کی باقاعدہ نشاندہی ماضی میں کی جا چکی ہے ۔
نتیجہ نکلنے تک نیٹوکو تیل کی فراہمی شروع نہیں کریں گے،آئل کیئریر مالکان 
کراچی میں آئل کیریئرز مالکان کا کہنا ہے کہ نیٹو فورسزکے حملے کا نتیجہ نکلنے تک نیٹوکو تیل کی فراہمی شروع نہیں کریں گے۔کراچی کی شریں جناح کالونی کے آئل ٹرمنل پرآج بھی ہزاروں ٹینکرز کھڑے رہے۔آئل کیریرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق وہ پاک فوج کے ساتھ ہیں اورموجودہ صوتحال میں نیٹو کو تیل فراہم نہیں کریں گے۔چاہے اس کیلئے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑے۔آئل کیریئرزمالکان کا کہنا تھاکہ معاملے کا نتیجہ نکلنے تک تیل کی فراہمی شروع نہیں کریں گے۔ 
مہمند ایجنسی واقعہ نظرانداز نہیں کیاجاسکتا، گورنر خیبرپختونخوا 
خیبرپختونخوا کے گورنر بیرسٹر مسعود کوثر نے کہاہے کہ مہمند ایجنسی میں پیش آنے والے واقعہ کو کسی صورت بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا‘ اس قسم کے واقعات سے دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ کو نقصان پہنچے گا اور ہمیں مجبوراً اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی‘ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز گورنر ہاؤس میں بیگم نصرت بھٹو مرحومہ کے چہلم کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا‘انہوں نے کہاکہ اس واقعہ میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر پورے پاکستان کی عوام کو دکھ پہنچا اور اس سے نیٹو افواج کیخلاف پاکستانی عوام میں اشتعال پیدا ہواہے‘انہوں نے کہاکہ پہلے بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوئے جس پر ہم نے بار بار احتجاج کیامگر اس مرتبہ کسی بھی صورت اس واقع کو ہم نظرانداز نہیں کرسکتے‘ انہوں نے کہاکہ مادر جمہوریت نصرت بھٹو نے ملک میں جمہوریت کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں اور مشکل وقت میں پارٹی کی کمان سنبھالی اس موقع پر ہم تمام ناراض نظریاتی کارکنوں کو دوبارہ پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں ‘شاہ محمود قریشی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر شاہ محمود قریشی کی تقریر بڑے تنازعات کا مجموعہ تھی جس پر عمران خان کو اس بارے میں خود سوچنا چاہئے کہ آیاوہ عمران خان کی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں یا عمران خان ان کی پارٹی میں ۔ 
جوانوں کو شہید کرنیوالوں سے امداد لینا بے غیرتی ہے،شہباز شریف 
وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے جوانوں کو شہید کرنیوالوں سے امداد لینا بے غیرتی ہے، قومی وقار مدنظر رکھنا ہو گا،عارضی فیصلوں سے کچھ نہیں ہوگا ۔ نیٹو حملے میں شہید ہونے والے کیپٹن عثمان کے اہلخانہ سے ملاقات اورفاتحہ خوانی کے بعد میاں شہباز شریف نے میڈیاسے گفتگو کی۔ انہوں نے کہاکہ قوم ابھی زندہ ہے اور پاک فوج کے افسروں اورجوانوں پر فخر کرتی ہے۔ ان کاکہناتھاکہ جن کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں ،وہی ہمارے سیکیورٹی اہل کاروں کو شہید کر رہے ہیں۔ انکاکہناتھاکہ جوانوں کو شہید کرنیوالوں سے امداد لینا بے غیرتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ پنجاب کے 10کروڑ عوام غیرملکی امدادکے بغیر زندہ ہیں ، مل کر فیصلہ کرناہوگاکہ عزت کی زندگی گزارنی ہے یا بے عزتی کی۔ 
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کے نام پاکستانی مندو ب کا خط 
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کے نام پاکستانی مندوب نے خط لکھا ہے۔سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب عبداللہ حسین ہارون نے اپنے خط میں سلامتی کونسل کے صدر سے مہمند ایجنسی کے واقعے پر سخت احتجاج کیااورسلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو دفاعی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کردیا گیا۔خط میں لکھا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے تمام اراکین کو دفاعی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا جائے۔عبداللہ حسین ہارون نے نیویارک پہنچتے ہی خط سلامتی کونسل کے صدر کو پہنچایا۔
پاکستان میں جوابی کارروائی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے،نیو یارک ٹائمز 
پاکستان میں امریکی افواج کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، پاکستان کے راہنما ہمیشہ کی طرح ایک بہت ہی خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں جبکہ نیٹو سپلائی کو پہلے ہی بند کیا جاچکا ہے، یہ احاطہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں کیا.
مہمند ایجنسی میں پاکستانی آرمی کے جانی نقصان اور اس کے بعد کی صورت حال پر اخبار اپنے اداریہ میں لکھتا ہے کہ پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر افسوس ہے ،واشنگٹن اور اسلام آباد کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ واقعہ پہلے سے انتہائی کشیدہ تعلقات کو تباہ نہ کردے ۔ مکمل اور شفاف انکوائری میں تاخیر پر حیران اور تشویش کا شکار ہیں،بحران میں اضافے میں اوباما انتظامیہ کا ہاتھ ہے ،صدر اوباما نے اظہار افسوس میں پیر تک کیوں دیر کی۔ امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے،پاکستان کی کمزور حکومت امریکی حمایت کے بغیر عسکریت پسندوں کے حملوں سے خطرات سے دوچار ہو گی۔ پاکستان میں امریکی افواج کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ نیٹو کے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر حملے کی وجہ کیا تھی لیکن اس سے اختلاف نہیں کہ جانوں کا ضیاع المیہ ہے۔ اس حملے میں کم از کم 24 پاکستانی فوجی شہید ہوئے ہمیں ان کی موت پر افسوس ہے ، جیسا کہ ہم عسکریت پسندوں کے ہاتھوں تمام امریکی ، نیٹو اور افغان فوجی اور پاکستانی اور افغان شہریوں کی ہلاکت پر کرتے ہیں۔واشنگٹن اور اسلام آباد کو مل کر کام کرنے ضرورت ہے ، فوری اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ واقعہ پہلے سے انتہائی کشیدہ تعلقات کو تباہ نہ کرے۔ امریکا کوطالبان کے خلاف جنگ کے تعاقب کیلئے پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے اور امریکی حمایت کے بغیر پاکستان کی کمزور حکومت انتہا پسندوں کے حملوں سے خطرات سے دوچار ہوجائے گی۔اب تک پاکستانی رہنماوٴں نے عوامی غصے کو قابو کرنے میں دلچسپی رکھی۔ اوباما انتظامیہ اور نیٹو نے بحران میں اضافے میں قیمتی وقت برباد کیا۔حملے کے فوری بعد ابتدائی ردعمل میں وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اپنے بیان میں ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ اخبار کہتا ہے کہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ صدر اوباما نے پیر تک ان میں اپنی آواز کو شامل کرنے میں کس کا انتظار کیا۔ہم واقعہ کی ایک مکمل اور شفاف انکوائری میں تاخیر پر حیران اور تشویش کا شکار ہیں۔ ہفتے کو افغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا کہ وہ اس واقعے کی اچھی طرح تحقیقات کریں گے لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ پنٹا گون کی مرکزی کمان کے راہنما جنرل جیمز میٹس نے پیر کو ایک رسمی تحقیقات کا اعلان کیا اور بریگیڈیئر جنرل اسٹیفن کلارک کو سربراہ مقرر کیا ، جس میں نیٹو اور جنرل ایلن ٹیم کے نمائندوں شامل کیا جائے گا۔ اہم بات یہ کہ مرکزی کمان نے پاکستان اور افغانستان کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اسلام آباد اور کابل کو اس سے اتفاق کرنا چاہیے ،جلدی اور قابل اعتمادمکمل انکوائری ہونی چاہیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس سے کیا سامنے آئے گا۔پاکستان کے راہنما ہمیشہ کی طرح ایک بہت ہی خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اب امریکا کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات نہیں ہوں گے۔ نیٹو سپلائی پہلے ہی بند کردی گئی ہے۔ ڈرون حملوں کے لئے استعمال ہونے والے بیس کو خالی کرانے اورکانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ پاکستان میں عوامی سطح پر مطالبہ زور پکڑ چکا ہے کہ امریکی افواج کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کی جائے۔ اس سے پہلے کہ چیزیں کنٹرول سے باہر نکل جا ئیں، پاکستانی رہنماوٴں کو بیان بازی کم کرتے ہوئے واضح کرنا چاہیے کہ اس واقعے کی تحقیق میں امریکا کے ساتھ کام کرنا ان کے ملک کے مفاد میں ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔دونوں فریقوں کو ان کی تلاش کرنی چاہیے۔
نیٹو حملے پر پاکستانیوں کا غصہ جائز ہے،جنرل مارٹن 
امریکی افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ مہمند ایجنسی کا واقعہ بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے،نیٹو حملے پر پاکستانیوں کا غصہ جائز ہے،جنرل کیا نی سے وعدہ کیا ہے کہ نیٹو واقعے کی تحقیقات کرے گا۔برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی جنرل مارٹنڈیمپسی کا کہنا تھا کہ مہمند ایجنسی واقعے کی خبرسنتے ہی جنرل کیانی سے رابطہ کیا۔واقعے پرپاکستان کی برہمی جائز ہے، ان کے 24 اہل کار شہید ہوئے۔ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نیٹو اور پاکستانی حکام کے تعلقات بہتربنانے کیلئے بات چیت جاری ہے،پاکستان اور امریکی افواج کے درمیان فوجی تعلقات اب بھی مستحکم ہیں۔جنرل مارٹن ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک 20 سال سے ہے،حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کا علم نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110